مصنف : ابنِ مسعؔود
موت اب بے حضور لگتی ہے
ندگی بے قصور لگتی ہے!
شوق میں چاہ ہے کوئی
چاہ میں عدم کی ہے پابندی!
اس خدی کے حصول میں عدم
جو خدی بے سرور لگتی ہے!
کیا کریں عشق سے بغاعت ہے
زندگی موت کی ہے پعری میں،
دلِ زندہ ہے بے حجاب بڑا
عقل ہے بے سروسامانی میں!
آنکھ مندھ ہے کہ موت آجائے
عشق بے سر ہے امر ہونے کو،
اور یہ کشمکشِ دوراں اب
ہم شناسی کی بھول لگتی ہے!
ہم کلامی کا تھا شوق ہمیں
ہم نوائی کا تھا جو زوق ہمیں،
با خدا زندگی کے پہلو میں
ہر ادا بے حضور لگتی ہے!