عمران خان کے انٹر ویو کا جائزہ
تحریر :ندیم حیدر ۔ایم فل ماس کمیو نیکیشن
عمران خان کی طلاق کے اس وقت کی اہم ترین خبر ہے۔ہر نیوزچینل مختلف انداز میں اس طلاق کو پیش کر رہاہے ۔ روزانہ قوم کو صحافتی اصول بتائے جاتے ہیں کہ کپتان کی طلاق کی خبر کی ٹانگیں کیسے تروڑ مروڑ کر پیش کی جائیں کچھ صحافی تو اس خبر کو مقدس گائے سمجھتے ہیں کہ اس بات ہی نہ کی جائے ،جبکہ اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے مخالفین کو لتاڑ کر ایک سینئر صحافی تو یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے عمران خان سے اتنا پوچھ لیا کہ آپ کو لوگوں کی پہچان نہیں ہے تو اس باتکی سزا یہ ہے کہ پوچھنے والے کی زبانی عزت افزائی کیساتھ اس کو دو جوتے بھی مارے جائیں۔جبکہ یہ تجزیہ نگار یہ بھی جانتا ہےکہ یہ ایک ایسا سوال تھا کہ جو کہ خان صاحب سے ہونا ہی تھا ۔ ایک طبقہ مزے لینے کیلئے اس کا جواب جاننا چاہتا ہے جبکہ کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو کہ ریحام خان سے وجود کو پاکستان تحریک انصاف کی سیاست کو موروثی سیاست میں تبدیل ہوتا دیکھ رہے تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر انہوں نے ریحام خان کے خلاف کوئی بات کی تو ان کی پارٹی کی بنیادی رکنیت ختم ہونے کا خطرہ ہے یہ سب میرا تجزیہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کے کچھ اہم ترین رہنماؤں سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ریحام خان کے خلاف کوئی بات مت کرو کسی نے سن لیا تو ہماراپارٹی میں وجود خطرہ میں پڑ جائے گا۔ اب وہ لوگ جو کہ تحریک انصاف کا حصہ ہونے کے باوجود ریحام خان کے پارٹی سے جانے پر بہت زیادہ خوش ہیں۔ معلوم نہیں کہ عمران خان کو کس بات کا صدمہ ہے اب تو وہ ایک عوامی شخصیت ہیں اگر ان کی بیوی کے بارے میں نہ سہی تو وہ یہ بات تو پوچھ سکتے ہیں کہ ان کہ ایک لیڈر یا کارکن جو کہ ہری پور ار لاہور کے اہم ترین ضمنی انتخاب میں پارٹی کی نمائندگی کرنے والی لیڈر کہا ں ہیں۔ معذرت کیساتھ اب عمران کیساتھ پارٹی سے بھی تو ان کی طلاق ہو گئی اور بیچارے ان کے دیوانوں کو معلوم نہیں کہ ہمارے لیڈر اور لیڈرانی کیساتھ ہوا کیا۔ ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک عوامی لیڈر کی ذاتی زندگی کے بارےمیں جاننے کا عوام کو کوئی حق نہیں، کوئی کہتا ہے کہ ریحام عمران کو زہر دینا چاہتی تھیں، ریحام اپنی فلم کیلئے پاکستان تحریک انصاف کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے پیسے وصول کر رہیں تھیں۔ آخر ماجرہ کیا ہےجب عمران خان صرف ایک کھلاڑی تھے تو اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت باادب ہو کر مغربی صحافیوں کو جواب دیتے تھے۔ ایک وڈیوآج کل انٹر نیٹ پربہت مقبول ہو وہی ہے جس میں عمران خان سے جب ان کی ان گنت محبوباؤں کے بارے میں ہوچھا جاتا تو وہ مسکرا کر کہتے اب ان کی شادی ہوگئی اور وہ خوش و خرم زندگی گزار رہیں ،انکار تو نہیں ہےمگر چھوڑوں یار مٹی پاؤ۔ عمران سے جب مزید پوچھا گیا کہ دنیا کی حسین ترین ماڈلز آپ کی دوست رہیں اور آپ نے شادی نہیں کی اس پر خان صاحب کہتے ہیں کہ وہ نہیں سمجھ سکتے ہیں کہ وہ شادی کے بعد اپنی فیملی کو ٹائم دے سکیں اور ان کا تجربہ ہے ان کے تمام دوست طلاق یافتہ ہیں جبکہ ایک دوست کو تو تین بار طلاق دے چکے ہیں ۔خیر چو طلاقیں عمران بھی دیکھ چکے ہیں یہاں اپنے دوستوں میں پہلے کی بجائے ابھی وہ دوسرے نمبر پر ہیں۔ ان کا اس انٹر میں مزید کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ان میں اتنا جذبہ ہے کہ وہ اپنے خاندان کو ٹائم دے سکیں گے۔ عمران خان نے اس ا نٹریو میں یہ بھی بتایا کہ ان کی والدہ کی خواہش تھی کہ وہ اپنی بہن کی دوست سے شادی کریں مگر انہوں نے اپنی ماں کی بھی نہیں سنی۔ تو بھائیوں جس نے ماں کی خواہش کا احترام نہیں کیا تو اس میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اچھا جی اب کیا کہیں کہ آپ مردم شناس ہیں یا نہیں یہ آپ خود بتائیں۔ ا اور کب تک ہمارے سینئر صحافی روزانہ کی بنیادوں پر نئے صحافتی اصول پیش کریں گے ۔ایک اصول تو ان افراد کا پکا ہے مفاد اور شہرت اور جن کے پاس شہرت بہت زیادہ ہے انہوں نے لوٹ سیل لگا کر شہرت کو سستی شہرت کیاہوا ہے۔ بہر حال جب تک طلاق کی وجہ سننے والے رازوں سے پردہ نہیں اٹھے گا یہ موضوع ختم ہونے والا نہیں دس مہینے کہ بعد ایسا کیا ہوا کہ طلاق ہو گئی جس پر کپتان اب غمزدہ بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جی کنٹنر
پر شادی کا اعلان ہو سکتا ہے تو طلاق کی وجہ جاننے کیلئے بھی کیا کسی دھرنہ کی ضرورت ہے؟