ہم اور ہمارے کھیل۔ فرقان بھٹی - Youth Forum

Search
Go to content

Main menu:

ہم اور ہمارے کھیل۔ فرقان بھٹی

ہَم اور ہمارے کھیل ، ہے کوئی پوچھنے والا ؟ 

محمد فرقان بھٹی ۔۔۔ 

ایک دور تھا کہ پاکستان کھیلوں کے حوالے سے دنیا میں ایک الگ ہی مقام رکھتا تھاوہ چاہے ہاکی ہویااسکواش ، کشتی ہو یا ایتھلیٹکس، ہر طرف پاکستان ہی چھایا ہوتا تھا۔۔کون بھلا سکتا ہے عبدالخالق کی وہ تیز رفتار ؟ کون بھلاسکتا ہے وہ دن جب عبدالخالق کو "فلائنگ برڈ آف ایشیاء" کا خطاب ملا۔پاکستان کے اِس عظیم ستارے نے اپنے کیریئرمیں 36سونے کے تمغے ، 15 سلور کے تمغے اور12 کانسی کے تمغے پاکستان کی جھولی میں ڈالے اور پاک سَر زمین کا نام روشن کیا۔آج کس کو یاد نہیں ہوگے وہ دن جب جہانگیر خان کا نام دنیا کے ہر شخص کی زبان پر تھا،کون بھلا سکتا ہے وہ جہانگیر خان کے چھ مرتبہ ورلڈ اوپن جیتنا ، کس کو یاد نہیں ہو گا جہانگیر خان کا دس دفعہ برٹش اوپن جیتنا ، کس کو یاد نہیں ہوگے وہ 1981 سے 1986 کے دن جب جہانگیر خان 555 گیمز لگاتار جیتے جو کہ کسی بھی پلیئر کا سپورٹس میں سب سے ذیادہ لگاتار میچز جیتنے کا ریکارڈ ہے۔ کیا ہی دن تھے جب جہانگیر خان کے بعد انکے بھائی جان شیر خان نے ذمہ داری نبھاتے ہوئے پاکستان کا نام روشن کیا اور آٹھ مرتبہ ورلڈ اوپن اور چھ مرتبہ برٹش اوپن جیتی۔ 

کیا ہی دن تھے جب ہاکی کے کھیل میں، شہناز شیخ،اَختَررسو ل ، تنویرڈار، شہباز سینیئر اورسہیل عباس جیسے کھلاڑ ی آسٹروٹرف پر چھا جاتے تھے اور ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کو جیت دلاتے تھے۔شاید اسی وجہ سے پاکستان چارمرتبہ ہاکی کا ورلڈ کپ جیتا جو کہ ایک ریکارڈ ہے ، ورلڈ کپ ہو یا اولمپکس ، پاکستان کا میڈل جیتنا ایک عام سی بات تھی اور جب بات آئے گول کرنے کی تو جناب پاکستان ہی کے سہیل عباس ہاکی کی تاریخ میں سب سے ذیادہ گولز ( 338) کیے رکھتے ہیں۔ اب تو خیر ورلڈ کپ اور اولمپکس دونوں سے ہی پاکستان ہاکی ٹیم باہر ہو چکی ہے۔۔

پنجاب ، پاکستان پوری دنیا میں کھاتے پیتے لوگوں کے حوالے سے مشہور ہے اور اگر کوئی کھاتے پیتے گھر کا شیر کشتی جیسے کھیل میں قدم رکھ لے تو پاکستان کی بلے بلے تو ہوگی ہی لیکن دشمن کی تو ایک بھی نہیں چلے گی۔۔ جی ہاں حضور ! ٹھیک سمجھے آپ ، میرا اشارہ شیر پنجاب محمد بشیر کی طرف ہی ہے .۔۔ محمد بشیر پاکستان کے واحد پہلوان ہیں جو اولمپکس میں گولڈ میڈل جیت چکے ہیں۔محمد بشیر نے کامن ویلتھ گیمز میں تِین سونے کے تمغے ، ایشیائی گیمز میں دو سلور، ایک کانسی اور ایک سونے کا تمغہ پاکستان کے نام کیا۔اور محمد آصف نے تو چند سال پہلے (2012)ہی میں ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ جیتی لیکن حکومت نے تو اعلان کرداٍ انعام کے پیچھے ان کو سات پشتے یاد کروا دیں یعنی ایک تو پہلے ہی کھیلوں کا برا حال ہے اور اوپر سے کوئی جیت جائے تو اسے اعلان کرداٍ انعام کے پیچھے بھی دھکے ہی کھانے پڑتے ہیں۔جو حکومت اپنے موجودہ ہیرو کی قدر نہیں کر پا رہی جو ماضی کے ستارو کا کیسے خیال رکھے گی ؟ کچھ گولڈ میڈلسٹ تو ایسے بھی ہیں جن کے گھر آج کھانے کو روٹی نہیں لیکن مجال ہے کہ کوئی حکومت کا رکن ان کو پوچھے؟ 

رہی بات فٹبال کی تو فٹبال کا بھی اللہ ہی حافظ ہے کچھ ماہ پہلے ہی پاکستان فٹبال ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2018ْ کے کوالیفائر راؤنڈ سے باہر ہو گئی ۔۔ کیا ہے کوئی حکومت سے پوچھنے والا کہ بھائی آپ نے اِس پر کیا ایکشن لیا ؟ کوئی کمیٹی بنائی جو فٹبال کو چلانے والو سے تفتیش کرے ؟ پاکستان میں کرکٹ کے بعد فٹبال ہی دیکھنا پسند کیا جاتا ہے ، اب پاکستان تو انٹرنیشنل لیول پر آنے سے رہا ، تو بس ہَم لوگ پریمئر لیگ دیکھ کر ہی دِل خوش کر لیتے ہیں۔ 

البتہ ایک کھیل ایسا ہے جس میں پاکستان کوئی اچھا میچ بھی جیت جائے تو حکومت تو کیا عوام سے ہی کچھ لوگ اٹھ کر انعام میں پیسے اور پلاٹ دے دیا کرتے ہیں ، جی ہاں میں کرکٹ کی بات ہی کر رہا ہوں ۔ اگر یہ کہا جائے کے پاکستان ایک " کرکٹ لونگ نیشن " ہے تو شاید غلط نہیں ہو گا لیکن افسوس ورلڈ کپ 2015میں جیسا کھیل پاکستان نے پیش کیا اور اب چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کے ’’لالے ‘‘۔۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا جو حال ہے اسکی وجہ سے کرکٹ کا بھی وہی حال نہ ہو جائے جو آج ہاکی اور اسکواش کا ہے۔ ہاکی ہو یا اسکواش ، فٹبال ہو یا کرکٹ ۔۔ پاکستان میں کھیلوں کے حالات کو بہتر کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے وہ یہ کہ حکومت پوری طرح سے کھیلوں پر توجہ دے اور جو جو ٹھیک کام نہیں کر رہا ان کو ہٹا کر کچھ ذمہ دار لوگوں کو لایا جائے ۔۔ آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ پاک پاکستان اور پاکستان کے کھیلوں کی حفاظت کرے اور ہمیں ہمارا کھویا ہویا مقام واپس نصیب کرے ،آمین! 

 
 
Back to content | Back to main menu