پاکستان میں زلزلے کے جھٹکے طلباء میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
ایک طرف خوف و حراس اور دوسری طرف طلباء کی خوشی پھولے نہ سمائی ۔ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی اپنی جان بچانے کے لئے کلاس روم چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ دو بجے کے بعد آنے والے زلزلے سے اسکول کالج اور یونیورسٹیز ایسے خالی ہوئیں جیسے جیل سے قیدی فرار ہوتے ہیں۔اکثر طلباءمیں زلزلے کا خوف دور دور تک نہیں تھا بعض جہاں خوش گپیوں میں مصروف نظر آئے وہیں اکثر سیلفی لینا بھی نہیں بھولے۔ کچھ معصوم طلباء فوری طور پر چھٹی کی اپیل بھی کر دی۔ کچھ حساس طلباء کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس زلزلے نے ان کے دماغ پر بہت منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور اب وہ دل و دماغ سے اس واقعہ کو مٹانے کیلئے تعلیمی اداروں میں آنے سے قاصر ہیں۔